EARTH QUACK IN BALAKOT***20, 000 sq km area, 3.3 million population affected in earth quack 2005
بکریال بکریال تباہ ہونے والے شہر بالاکوٹ سے تقریباً تیس کلومیٹر دور ہے صوبہ سرحد میں اکتوبر کے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر علاقے بالاکوٹ کو حکومت نے ریڈ زون قرار دے کر بکریال کے مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منتقلی ابھی سرکاری فائلوں تک محدود ہے۔ عوام تک مناسب معلومات نہ پہنچنے کی وجہ سے بالاکوٹ اور بکریال دونوں کی آبادیاں خدشات میں گھری ہوئی ہیں۔ بالاکوٹ سے تقریبا تیس کلومیٹر دور پہاڑی علاقے بکریال کے ایک کھیت میں ٹریکٹر نئی فصل کے لیئے زمین جبکہ حکومت یہاں نیا بالاکوٹ بسانے کی غرض سے راے عامہ ہموار کر رہی ہے۔ تقریباً دو سو دور دور پھیلے ہوئے مکانات پر مشتمل بکریال میں کھیتی باڑی ذریعے معاش ہے۔ بالاکوٹ سے مانسہرہ شہر جاتے ہوئے تقریبا بائیس کلومیٹر دور مین روڈ سے ایک چھوٹی سے سڑک بکریال کی جانب نکلتی ہے۔ اس سڑک کی حالت انتہائی خراب ہے۔ جبکہ اس علاقے میں پانی بھی بہت کم دستیاب ہے۔ یہاں جنگلات بھی بے دردی سے کٹ چکے ہیں۔ زلزلے کے بعد یہاں حکومت نے متاثرین کے لیئے ایک خیمہ بستی بھی قائم کی تھی۔ وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس کا افتتاح کیا اور یہاں سڑک کی تعمیر اور گیس مہیا کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں میں سے کوئی منصوبہ بھی ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔ بکریال یہاں بننے والی خیمہ بستی میں زیادہ لوگ رہنے کے لیئے نہیں آئے مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس خیمہ بستی میں رہنے کے لیئے بھی کوئی نہیں آیا اور یہ کوشش ناکام ثابت ہوئی۔ لیکن حکام نے پھر بھی اسے نیا بالاکوٹ بسانے کے لیئے چنا ہے۔ بکریال کے چند دیہاتیوں سے پوچھا کہ وہ بالاکوٹیوں کے آنے سے خوش ہیں یا ناراض تو ان کا رردعمل ملا جلا تھا۔ بکریال کے زمیندار محمد درانی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یہاں شہر بسانا چاہتی ہے تو وہ کیا کہ سکتے ہیں۔ ’ہمارے خوش یا خفا ہونے سے کیا ہوگا‘؟ ایک اور رہائشی محمد جاوید کا کہنا تھا کہ اچھا ہے کہ بالاکوٹ والوں کو لا کر بسائیں۔ یہاں پر درے والوں نے جس اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے اس کو دوبارہ آباد کریں۔ ’ہم تو ان درے والوں سے نہیں لڑ سکتے۔ اسی طرح کسی کا شاید فائدہ ہوجائے‘۔ بکریال کے بابر یہاں شہر آباد کرنے کے مخالفین میں سے ایک تھے۔ انہیں خدشہ تھا کہ اس سے ان کا دیہی ماحول خراب ہوگا۔ ’ہمارا دیہی ماحول ہے ہماری عورتیں بھی کھیتوں میں باہر کام کرتی ہیں۔ یہاں رش ہوجائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مخالفت میں ابھی تک آواز نہیں اٹھائی کیونکہ ان سے اس فیصلے کے بارے میں کسی نے اب تک پوچھا ہی نہیں۔ ’کوئی پوچھے گا تو بتائیں گے نہ۔ آپ پہلے شخص ہیں جس نے یہ پوچھا ہے‘۔ میر قلم کا کہنا تھا کہ یہاں اتنی بڑی آبادی کے آنے سے کھچڑی پک جائے گی۔ ’یہاں پہلے زمین کے کافی تنازعات چل رہے ہیں۔ دس بارہ قتل ہوچکے ہیں۔ ہماری کئی نسلوں نے اس علاقے کو آباد کیا ہے‘۔ بکریال ’ہمارہ دیہی ماحول خراب ہو جائے گا بکریال کے ناظم حاجی خالد جاوید کا ماننا ہے کہ بالاکوٹ کے یہاں منتقل ہونے سے اس علاقے کو بھی فائدہ ہوگا۔ ’اگر شہر آباد ہوگا تو سہولتیں بھی میسر آئیں گی۔ گیس، کالج ملیں گے۔ اس میں فائدہ ہے نقصان نہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بکریال نئے بالاکوٹ کے لیئے دو وجوہات کی بنا پر موضوع ہے۔ ایک تو یہ بالاکوٹ کے قریب ہے تو وہاں کے لوگوں کا تعلق اپنے آبائی علاقے سے رہے گا۔ وہ باآسانی اپنے قبرستان یا دیگر جگہوں تک آ جا سکیں گے۔ دوسری وجہ یہاں اتنی بڑی تعداد میں زمین کی دستیابی ہے۔ یہاں سرکاری زمین بھی ہے اور نجی بھی۔ حکومت کی جانب سے منتقلی کے بارے میں اعلانات سے متاثرین کے خدشات ختم نہیں بلکہ بڑھے ہیں۔ ابھی زمین پر کچھ نہیں بات صرف کاغذوں تک محدود ہے۔ حکومت کے پاس پچیس ہزار کنال زمین موجود ہے جبکہ جنگلات کو بھی ضرورت کے وقت استعمال میں لایا جاسکے گا۔ اس منتقلی سے اراضی کے تنازعات کے خدشات کے بارے میں مانسہرہ کے ناظم سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی نے وہاں خمیہ بستی کے قیام کے وقت تحریری طور پر وعدہ کیا تھا کہ وہ یہ اراضی بغیر کسی معاوضے کے حکومت کو دے رہے ہیں اور بعد میں مکانات کی تعمیر کے وقت بھی وہ کچھ نہیں مانگیں گے۔ ’سرکاری زمین بھی کافی ہے لہذا اراضی کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا‘۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہاں پر ابتدائی طور پر چھ ہزار مکانات تعمیر کیئے جائیں گے۔ سردار یوسف کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بڑی تفصیل اور تسلی سے تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ’پانی، سڑک اور گیس کے لیئے سروے کیئے جا رہے ہیں۔ اس لیئے یہاں زمین پر فل الحال کوئی پیش رفت دیکھائی نہیں دے رہی ہے‘۔.
****EARTH QUACK IN BALAKOT***20, 000 sq km area, 3.3 million population affected in earth quack 2005
صوبہ خیبر پختونخوا، پاکستان کے ضلع مانسہرہ کا ایک شہر جس کو تحصیل کا درجہ بھی حاصل ہے۔ تاریخی و سیاحتی اہمیت کا حامل ہے۔ سطح سمندر سے اس کی اوسط بلندی 971 میٹر (3188 فٹ) ہے۔ 2005ء میں آنے والے زلزلے سے اس شہر کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ زلزلے کی تباہی کے آثار اب بھی جا بجا دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت نے اس شہر کو تعمیرات کے لیے غیر موزوں اور خطرناک قرار دے رکھا ہے اور شہر سے چند کلومیٹر باہر "نیو بالاکوٹ سٹی" کے نام سے نیا شہر بسانے کا منصوبہ ہے جس پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ بالاکوٹ مانسہرہ شہر سے 38 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ تاریخی قصبہ سیاحوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وادی کاغان کا آغاز اسی قصبے سے ہوتا ہے۔ جھیل لولوسر سے نکلنے والا دریائے کنہار بالاکوٹ شہر کے قلب سے گزرتا ہوا مظفر آباد کے قریب دریائے جہلم میں جا گرتا ہے۔ یہ ضلع مانسہرہ کا ایک اہم شہر ہے اور اسے سب سے بڑی تحصیل کا درجہ بھی حاصل ہے۔ زلزلے سے چند ماہ قبل کے بالاکوٹ شہر کا ایک منظر بالاکوٹ کو سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی تحریک مجاہدین کے باعث تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ دونوں عظیم ہستیوں کے مزارات اسی شہر میں واقع ہیں۔ بالاکوٹ تحریک مجاہدین کا آخری پڑاؤ تھا اور سکھوں کے خلاف عظیم جدوجہد کا آخری مرکز۔ 6 مئی 1831ء کو ایک خونریز جنگ کے بعد سید احمد اور شاہ اسماعیل نے بالاکوٹ کی اسی سرزمین کو اپنے لہو سے سرخ کیا۔ شہر کی مرکزی مسجد سید احمد شہید کے مزار سے ملحق دریائے کنہار کے کنارے واقع ہے اور سید احمد شہید مسجد کہلاتی ہے۔ 2005ء کے زلزلے میں تباہ ہونے کے بعد اب اس کی جگہ نئی مسجد تعمیر کی جا رہی ہے۔ یہ مسجد 1992ء کے سیلاب میں بھی تباہ ہوئی تھی۔ بالاکوٹ میں ہندکو زبان سب سے زیادہ بولی جاتی ہے جبکہ اردو زبان زد خاص و عام ہے۔ شہر زلزلے کے بعد سے اب تک ہونے والی امدادی سرگرمیوں کا مرکز ہے کیونکہ زلزلے سے بالاکوٹ اور اس کے گرد و نواح میں زبردست نقصان پہنچایا تھا۔ غیر ملکی امدادی ادارے اور کئی ملکی ادارے زلزلے کے بعد ابتدائی ایام میں ہنگامی خدمات انجام دینے کے بعد زلزلہ زدگان کا ساتھ چھوڑ گئے جبکہ فلاح انسانیت فائونڈیشن اورالخدمت ویلفیئر فاؤنڈیشن جیسے ادارے آج بھی عملی طور پر بالاکوٹ کے عوام کی زندگیوں کو دوبارہ اُسی شاہراہ پر رواں کرنے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ الخدمت کا دفتر بالاکوٹ سے ڈیڑھ کلومیٹر پہلے بانپھوڑا میں واقع ہے۔

Wednesday, 6 April 2011

No comments:

Post a Comment